Blogs

سلجوقوں کا عروج” ایپی سوڈ” 14 تجزیہ

سلجوقوں کا عروج" کی سازشیں بھری ایپی سوڈ 14 آن ائر ھو کر آپ تک پہنچ گئی۔


السلام علیکم
دوستو!
“سلجوقوں کا عروج” کی سازشیں بھری ایپی سوڈ 14 آن ائر ھو کر آپ تک پہنچ گئی۔ امید ھے پچھلی قسط میں ابھرے بہت سے سوالوں کے جواب اس ایپی سوڈ میں مل گئے ھونگے۔نظام الملک کو کارگر زھر دینے کی صورت میں تورنہ کے ساتھ کیا بیتے گی اور کیا نظام الملک کی سانسوں کی ڈور قائم رہ پائے گی یا نہیں اور سنجر کی ماں کا سلطان سلمان شاہ سے آمنا سامنا ھو پائے گا یا نہیں ان تمام باتوں کے جواب آج کی ایپی سوڈ اپنے دامن میں خوب صورت انداز میں چھپائے لائی۔
آجکی قسط نے نئے ابہام و اسرار تو کم پیدا کئے لیکن سازشوں پر سازشیں ‘سازشیں اور بھرپور سازشیں ضرور دکھائی دیں۔باطنیوں کی سلجوقیوں کے خلاف’صلیبیوں کی سلجوقیوں کے خلاف’ صلیبیوں کا باطنیوں کے ساتھ سلجوقیوں کے خلاف اتحاد۔
حسن بن صباح کا پھیلایا زھر سلجوقیوں کے اندرتک سرائیت کرتا دکھائی دیا۔باغی سنجر اپنے ضدی اور مصمم ارادوں کے ساتھ ارسلانتس کو نہ صرف بچانے میں بلکہ اسکی یادداشت واپس لا کر اسے حقیقت کا احساس دلانے میں بھی کامیاب ھو گیا ھے۔
دوسری جانب باوجود کوشش کے سنجر کے ساتھی ارسلانتس کی والدہ کو اس کے اپنے ہی بیٹے رستم سے محفوظ نہ رکھ سکے۔اور زندہ تو نہیں لیکن مردہ حالت میں ارسلانتس اپنی ماں کو دفنا کر یہ یقین بھی پختہ کر بیٹھا ھے کہ نظام الملک نہ صرف اس کے محسن ہیں بلکہ سیدنا حضرت ہی اس کے خاندان کی تباہی کے زمہ دار تھے۔
تورنہ خاتون کی سچائی کی حقیقت کا احساس کر کے سلطان کا اسے نظام الملک کی دیکھ بھال کی زمہ داری سونپنا اور تورنہ کا زھر کا توڑ ڈھونڈ کر کامیابی سے نظام الملک میں زندگی کے آثار دوبارہ لوٹ آنے سے ان کی زندگی کی کچھ امید بندھتی نظر آئی ھے۔
ادھر سلطان کا مسلسل سنجر کے باغیانہ انداز اور کسی کے ھاتھ نہ لگنے سے اسے بزات خود گرفتار کرنے کا قصد کر کے محفوظ مذھبی ٹھکانے پر جا کر سنجر کی والدہ کا سامنا ھوتے ھوتے رہ جانا کہانی کو ایک مرتبہ پھر بلا وجہ طویل کر گیا۔
جہاں سلطنت کو دوسری بیرونی سازشیں گھیرے میں لے رہی ہیں وہیں عورتوں کی سازشیں محل اور سلطان کے لئے باعث عبث و پریشانی ہیں۔
گوھر خاتون کے دل میں برکیارق کے آنے کی خبر نے اپنے ھونے والے بچے کے سلطنت کا وارث ھونے کی راہ میں خطرے کا احساس پیدا کر دیا ھے۔
ایک جانب امیر التبر تاجر فیصل کے ھاتھوں بلیک میل ھوکر اسے الہجر کی اھم جگہ سونپ کر ایک بڑی غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ خوب رو گھنگھریالے بالوں والا حسین نوجوان کتنے بڑے فتنہ کا پیش رو ھے اور سیدنا حضرت جو دراصل حسن بن صباح ھی ھے کا منہ بولا بیٹا بھی ھے اور وہ انہی کے اشاروں پر کھیل رھا ھے۔
سلطان ملک شاہ اس وقت بہت اکیلے اور مشکل میں گرفتار محسوس ھوتے ھیں کیونکہ ایک طرف ان کے عقلمند وزیر با تدبیر نظام الملک بے حس وحرکت حالت میں پڑے ہیں اور دوسری جانب ان کا زاتی وفادار سپاہی اور اس کے جانباز ساتھی بظاھر بغاوت پر آمادہ اور فرار ہیں۔
باطنیوں اور صلیبیوں کے اتحاد کی خبر بھی سلطان کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ھے اور اسی پریشانی میں بہادر اور جانباز سلطان اپنی فوج کے ساتھ فوری طور پر قلعہ کوول پر چڑھائی کا منصوبہ بنا کر اپنی ماں سیفیریہ خاتون سے فتح و نصرت کی ڈھیروں دعائیں لے کر حق کا نعرہ لگاتے ھوئے میدان جنگ میں کود پڑتے ہیں جہاں وہ اور ان کی فوج کے بہادر جوان اپنی تلواروں سے باطنیوں اور صلیبیوں کے خلاف نئی داستان شجاعت رقم کرتے ہیں۔
اب کہانی میں خفیہ کتاب کی کھوج کی مہم شروع ھو چکی ھے جس میں باطنیوں کے فدائیوں کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔جس کا زکر ابو حامد غزالی بھی کرتے ہیں
اور در حقیقت یہ کتاب اس وقت رستم کی تحویل میں ھے۔اور ناظرین ایسے لگتا ھے کہ شائد کسی واقعہ کے نتیجے میں رستم کو اپنی ہی ماں کو مارنے کا احساس ھو جائے اور وہ سیدنا کے خلاف ھو جائے۔
ڈرامے کے خوبصورت مناظر میں سلطان کا تاران خاتون اور تاج الملک کا اپنے حضور پیش ھونے کا حکم اور پھر سلطان کا تاج الملک کو ایک ہی زوردار تھپڑ رسید کرنا اور تاج الملک کا اس تھپڑ کے کھانے سے گر جانا بہت پر لطف منظر تھا۔اور ناظرین اسے دیکھ کر بہت محظوظ ھوئے ھونگے۔
سنجر کا تاجر فیصل کی جگہ پر چھاپا جبکہ رستم کا اسی جگہ پر خفیہ کتاب کے ساتھ موجود ھونا اور سنجر کا تاجر فیصل کے ساتھ مکالمہ۔یہاں تاجر فیصل کا کردار نبھانے والے اداکار کی اداکاری کی تعریف نہ کرنا سراسر زیادتی ھو گی ۔لیکن حیرت کہ اتنی گہری نظروں سے ساری جگہ کی تلاشی لینے کے باوجود سنجر اور اس کے ھوشیار ساتھیوں کو رستم دکھائی نہ دے سکا۔
میدان جنگ کے مناظر جس میں نہ صرف تلوار بازی اور دو بدو جسمانی لڑائی کے خوبصورت اور جان لیوا مناظر دکھائی دئیے وہیں گھوڑوں کی لڑائی ان کا گرنا ‘ گھائل ھونا اور دشمن پر اپنے سواروں کے ساتھ حملے کرنا ان کے ٹرینیز کی محنت اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
دوستو دیکھتے ہیں اس ساری صورتحال میں معاملات کہاں جاکر ٹہرتے ہیں سنجر اور سلطان کی غلط فہمیاں کیسے دور ھوتی ہیں؟ تاران خاتون زھر دینے والی لڑکی کو پیش کر پاتی ہے یا کسی نئی سازش کا آغاز کرتی ہیں؟
نظام الملک کسطرح دوبارہ سے ریاست کے لیے فعال ہوتے ہیں اور دلوں میں کھلتے محبتوں کے شگوفے کیا رنگ دکھاتے ہیں دیکھتے ہیں یہ سب اور بہت کچھ اگلی ایپی سوڈ میں۔تب تک کے لئے
اپنا دھیان رکھئے گا
دعاوں میں یاد رکھئے گا
#نازنین_مقیت#

#سلجوقوںکاعروج #nizamealemtvurdu #nizamealam #nizamealemurdusubtitles

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button

Please Disable Adblock

Please Disable Adblock